وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ " . يَعْنِي الشُّؤْمَ .
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
حدیث 1784 — موطأ مالك 54:22
Shadh
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نحوست گھر، عورت، اور گھوڑے میں ہوتی ہے
حدیث 1785 — موطأ مالك 54:23
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَكَنَّاهَا وَالْعَدَدُ كَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهَا ذَمِيمَةً " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مر گئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے ۔
حدیث 1786 — موطأ مالك 54:24
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مُرَّةُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ حَرْبٌ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ يَعِيشُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْلُبْ " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اس اونٹی کا دودھ کون دوہے گا؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ وہ بولا مرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا آپ نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا حرب ۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا یعیش آپ نے فرمایا جا دوھ ۔ یعیش نام آپ نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے آپ فال نیک بہت لیا کر تے تھے
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا جمرہ (انگارہ) انہوں نے پوچھا باپ کا نام؟ کہا ابن شہاب (شعلہ) ، پوچھا کس قبیلے سے؟ کہا حرقہ سے جس کے معنے جنے کے ہیں، پوچھا کہاں رہتا ہے؟ کہا حرۃ النار میں، پوچھا کون سی جگہ میں؟ کہا ذات لظی میں، ان کے معنے بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں، حضرت عمر نے کہا جا اپنے لوگوں کی خبر لے وہ سب جل گئے راوی نے کہا جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو حضرت عمر نے کہا تھا یعنی سب جل گئے تھے۔
حدیث 1788 — موطأ مالك 54:26
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ .
انس بن مالک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے ابوطیبہ کے ہاتھ سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کر دیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی تو وہ پچھنے ہوتے
حدیث 1789 — موطأ مالك 54:27
ضعیف
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ دَوَاءٌ يَبْلُغُ الدَّاءَ فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَبْلُغُهُ " .
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ دَوَاءٌ يَبْلُغُ الدَّاءَ فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَبْلُغُهُ " .
حدیث 1790 — موطأ مالك 54:28
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ " . يَعْنِي رَقِيقَكَ .
ابن محیصہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لا نا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابوطبیہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا مگر یہ ممانعت تنزیہا ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر ۔
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ کر تے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جا نا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے ۔