عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین سے لوٹے اور ارادہ رکھتے تھے جعرانہ کا؛ مانگنے لگے لوگ آپ سے (مال غنیمت)، اسی اثنا میں آپ کا اونٹ کانٹوں کے درخت کی طرف چلا گیا، اور کانٹے آپ کی چادر میں اٹک کر چادر آپ کی پشت مبارک سے اتر گئی، تب آپ نے فرمایا؛ "کہ میری چادر مجھ کو دے دو کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نہ بانٹوں گا وہ چیز تم کو جو اللہ نے تم کو دی" "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر اللہ تم کو جتنے تہامہ کے درخت ہیں اتنے اونٹ دے تو میں بانٹ دوں گا تم کو؛ پھر نہ پاؤ گے مجھ کو بخیل نہ بودا نہ جھوٹا، پھر جب اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑ ہوئے لوگوں میں، اور کہا کہ؛ اگر کسی نے تاگا اور سوئی لے لی ہو وہ بھی لاؤ کیونکہ غنیمت کے مال میں سے چرانا شرم ہے دین میں اور آگ ہے اور عیب ہے قیامت کے روز، پھر زمین سے اونٹ یا بکری کے بالوں کا ایک گچھا اٹھایا، اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، جو مال اللہ پاک نے تم کو دیا؛ اس میں سے میرا اتنا بھی نہیں ہے، مگر پانچواں حصہ اور پانچواں حصہ بھی تمہارے ہی واسطے ہے ۔
حدیث 981 — موطأ مالك 21:23
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِينَ دِرْهَمَيْنِ .
زید بن خالد جہنی نے کہا ایک شخص مر گیا حنین کی لڑائی میں تو بیان کیا گیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز پڑھ لو اپنے ساتھی پر، لوگوں کے چہرے زرد ہو گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، زید نے کہا ہم نے اس شخص کا اسباب کھولا تو چند منکے یہودیوں کے پائے جو دو درہم کے مال کے برابر تھے ۔
حدیث 982 — موطأ مالك 21:24
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى النَّاسَ فِي قَبَائِلِهِمْ يَدْعُو لَهُمْ وَأَنَّهُ تَرَكَ قَبِيلَةً مِنَ الْقَبَائِلِ - قَالَ - وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ وَجَدُوا فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ عِقْدَ جَزْعٍ غُلُولاً فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْمَيِّتِ .
عبداللہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگوں کی جماعتوں پر تو دعا کی سب جماعتوں کے واسطے مگر ایک جماعت کے واسطے دعا نہ کی کیونکہ اس جماعت میں ایک شخص تھا جس کے بچھونے کے نیچے سے ایک کنٹھا چوری کا نکلا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جماعت پر آئے تو آپ نے تکبیر کہی جیسے جنازے پر کہتے ہیں ۔
حدیث 983 — موطأ مالك 21:25
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، سَالِمٍ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا إِلاَّ الأَمْوَالَ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ - قَالَ - فَأَهْدَى رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا " . قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ نکلے ہم ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے, خبیر کے سال تو غنیمت میں سونا اور چاندی حاصل نہیں کیا بلکہ کپڑے اور اسباب ملے اور رفاعہ بن زید نے ایک غلام کالا ہدیہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کا نام مدعم تھا, تو چلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی طرف تو جب پہنچے ہم وادی القری میں تو مدعم اتنے میں ایک تیر بے نشان کے آلگا اور وہ مرگیا، لوگوں نے کہا مبارک ہو جنت کی اس کے واسطے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ جو کمبل اس نے حنین کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے قبل تقسیم لیا تھا، آگ ہو کر اس پر جل رہا ہے۔ جب لوگوں نے یہ سنا ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تسمہ یا دو تسمے آگ کے تھے ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جو قوم غنیمت کے مال میں چوری کرتی ہے ان کے دل بودے ہو جاتے ہیں، اور جس قوم میں زنا زیادہ ہو جاتا ہے ان میں موت بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے، اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے ان کی روزی بند ہو جاتی ہے، اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خون زیادہ ہو جاتا ہے، اور جو قوم عہد توڑتی ہے ان پر دشمن غالب ہو جاتا ہے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے چاہی یہ بات کہ اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ ابوہریرہ کہتے تھے؛ اس بات کی میں تین بار گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ہنسے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو شخصوں پر کہ ایک دوسرے کا قاتل ہوگا اور دونوں جنت میں جائیں گے ایک شخص نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور مارا گیا بعد اس کے مارنے والے پر اللہ نے رحم کیا اور وہ مسلمان ہوا اور جہاد کیا اور شہید ہوا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے نہیں زخمی ہوگا کوئی شخص اللہ کی راہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو زخمی ہوتا ہے اس کے راستے میں ، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا جس کا رنگ بھی خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے اے پروردگار!میرا قاتل ایسے شخص کو نہ بنانا جس نے تجھے ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے ۔