وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ قُلْتَ " . فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِلاَّ الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ " .
ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے ۔
حدیث 990 — موطأ مالك 21:32
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ " هَؤُلاَءِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا كَمَا أَسْلَمُوا وَجَاهَدْنَا كَمَا جَاهَدُوا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلَى وَلَكِنْ لاَ أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي " . فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ أَئِنَّا لَكَائِنُونَ بَعْدَكَ
ابو النصر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہیدوں کے لئے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کا میں گواہ ہوں حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں مسلمان ہوئے ہم جیسے وہ مسلمان ہوئے اور جہاد کیا ہم نے جیسے انہوں نے جہاد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مگر مجھے معلوم نہیں کہ بعد میرے کیا کرو گے تو ابوبکر رونے لگے اور فرمایا کہ ہم زندہ رہیں گے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔
حدیث 991 — موطأ مالك 21:33
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ مَا قُلْتَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ بُقْعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور قبر کھد رہی تھی، مدینہ میں ایک شخص قبر کو دیکھ کر بولا کیا بری جگہ ہے مسلمان کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بری بات کہی تو نے، وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا اس سے بہتر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں مگر ساری زمین میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ میں اپنی قبر وہاں پسند کرتا ہوں مدینہ سے تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے؛ عزت مومن کے تقوی میں ہے اور دین اس کی شرافت ہے اور مروت اس کا خلق ہے اور بہادری اور نامردی دونوں خلقی صفتیں ہیں جس شخص میں اللہ چاہتا ہے ان صفتوں کو رکھتا ہے تو نامرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بہادر اس شخص سے لڑتا ہے جس کو جانتا ہے کہ گھر تک نہ جانے دے گا اور قتل ایک موت ہے موتوں میں سے اور شہید وہ ہے جو اپنی جان خوشی سے اللہ کے سپرد کر دے ۔
حدیث 994 — موطأ مالك 21:36
Mauquf Sahih
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر غسل دئے گئے اور کفن پہنائے گئے اور نماز جنازہ ان پر پڑھی گئی حالانکہ وہ شہید تھے ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور حضرت عمر سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے حضرت عمر نے فرمایا میں تجھ کو دیتا ہوں اللہ کی قسم سے تیری مراد کد ہے وہ بولا ہاں ۔
حدیث 996 — موطأ مالك 21:38
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي فِي رَأْسِهِ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آپ تشریف لے جاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور وہ اس زمانے میں عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک روز آپ ان کے گھر میں گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میرے امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سوار ہو رہے تھے بڑے دریا میں جیسے بادشاہ تخت پر سوار ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کے سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کو جاتے تھے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہو چکی ام حرام معاویہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں جب دریا سے نکلیں تو جانور پر سے گر کر مر گئیں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا مگر نہ پاس اس قدر سواریاں ہیں کہ سب لوگوں کو ان پر سوار کروں نہ ان کے پاس اتنی سواریاں ہیں کہ وہ سب سوار ہو کر نکلیں اگر میں اکیلا جاؤں تو ان کو میرا چھوڑنا شاق ہوتا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں
حدیث 998 — موطأ مالك 21:40
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَطُوفُ بَيْنَ الْقَتْلَى فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لآتِيَهُ بِخَبَرِكَ . قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ طَعْنَةً وَأَنِّي قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِي وَأَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّهُ لاَ عُذْرَ لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَاحِدٌ مِنْهُمْ حَىٌّ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ جنگ احد کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون خبر لا کر دیتا ہے مجھ کو سعد بن ربیع انصاری کی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دوں گا وہ جا کر لاشوں میں ڈھونڈھنے لگا سعد نے کہا کہ کیا کام ہے؟ اس شخص نے کہا مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری خبر لینے کو بھیجا ہے کہا کہ تم جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مجھے بارہ زخم برچھوں کے لگے ہیں اور میرے زخم کاری ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ جل جلالہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ رہا ۔