قرآني·Qurani
اردو

الجهاد

50 احادیث · #959–1008

حدیث 999 — موطأ مالك 21:41
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَأْكُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ فَقَالَ إِنِّي لَحَرِيصُ عَلَى الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُنَّ ‏.‏ فَرَمَى مَا فِي يَدِهِ فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رغبیت دلائی جہاد میں اور بیان کیا جنت کا حال اتنے میں ایک شخص انصاری کھجوریں ہاتھ میں لئے ہوئے کھا رہا تھا وہ بولا مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھالوں پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔
حدیث 1000 — موطأ مالك 21:42
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الأَمْرِ وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ خَيْرٌ كُلُّهُ وَغَزْوٌ لاَ تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ وَلاَ يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ وَلاَ يُطَاعُ فِيهِ ذُو الأَمْرِ وَلاَ يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ لاَ يَرْجِعُ صَاحِبُهُ كَفَافًا ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے کہا جہاد دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں عمدہ سے عمدہ مال صرف کیا جاتا ہے اور رفیق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے اور افسر کی اطاعت کی جاتی ہے اور فسار سے پرہیز رہتا ہے یہ جہاد سب کا سب ثواب ہے اور ایک وہ جہاد ہے جس میں اچھا مال صرف نہیں کیا جاتا اور رفیق سے محبت نہیں ہوتی اور افسر کی نافرمانی ہوتی ہے اور فسار سے پرہیز نہیں ہوتا یہ جہاد ایسا ہے اس میں جو کوئی جائے ثواب تو کیا خالی لوٹ کر آنا مشکل ہے ۔
حدیث 1001 — موطأ مالك 21:43
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک ۔
حدیث 1002 — موطأ مالك 21:44
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے ۔
حدیث 1003 — موطأ مالك 21:45
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبَقَ وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَىْءٌ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے گھوڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے اور جب پیچھے رہ کچھ نہ دے ۔
حدیث 1004 — موطأ مالك 21:46
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں لوگوں نے اس کا سبب پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر ۔
حدیث 1005 — موطأ مالك 21:47
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ أَتَاهَا لَيْلاً وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَخَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلے خیبر کو پہنچے وہاں رات کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبلیں لے کر نکلے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے قسم ہے اللہ کی محمد ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر خراب ہو خیبر انا اذانزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرین ۔
حدیث 1006 — موطأ مالك 21:48
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک جوڑا صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے تو جو شخص نمازی ہوگا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص جہادی ہوگا وہ شخص جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص روزے بہت رکھے گا اور باب الریان سے بلایا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حزن نہ ہوگا مگر کوئی ایسا بھی جو سب دروازوں سے بلایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہوگے ۔
حدیث 1007 — موطأ مالك 21:49
Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السَّلَمِيَّيْنِ كَانَا قَدْ حَفَرَ السَّيْلُ قَبْرَهُمَا وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ وَكَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَهُمَا مِمَّنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّهُمَا مَاتَا بِالأَمْسِ وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ وَكَانَ بَيْنَ أُحُدٍ وَبَيْنَ يَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ أَنْ يُدْفَنَ الرَّجُلاَنِ وَالثَّلاَثَةُ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ وَيُجْعَلَ الأَكْبَرُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی صعصہ سے روایت ہے کہ عمرو بن الجموع اور عبدالرحمن بن عمرو انصار سلمی جو شہید ہوئے تھے جنگ احد میں ان کی قبر کو پانی کے بہاؤ نے اکھیڑ دیا تھا اور قبر ان کی بہاؤ کے نزدیک تھی اور دونوں ایک ہی قبر میں تھے تو قبر کھودی گئی تو لاشیں ویسی ہی تہیں جیسے وہ شہید ہوئے تھے گویا کل مرے ہیں ان میں سے ایک شخص کو جب زخم لگا تھا تو اس نے ہاتھ اپنے زخم پر رکھ لیا تھا جب ان کو دفن کرنے لگے تو ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر ہاتھ پر وہیں آلگا جب ان کی لاشیں کھو دیں تو جنگ احد کو چھیالیس برس گزر چکے تھے ۔
حدیث 1008 — موطأ مالك 21:50
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأْىٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي فَجَاءَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَحَفَنَ لَهُ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے پاس روپیہ آیا بحرین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دینے کا وعدہ کیا ہو وہ ہمارے پاس آئے جابر بن عبداللہ حضرت ابوبکر نے ان کو تین لپ بھر کر دیئے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔