حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پئے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے ۔
ابو مثنی جہنی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں ابوسعید خدری آئے مروان نے ان سے کہا کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ نے پانی میں پھونکنے سے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا ہاں! ایک شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرکے سانس لے لیا کر پھر وہ شخص بولا میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو بہادے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور عثمان بن عفان کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے ۔
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے پاس دودھ آیا جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا اور داہنی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدوی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا پہلے داہنی طرف والے کو دو پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے ۔
حدیث 1688 — موطأ مالك 49:18
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلاَمِ " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاَءِ " . فَقَالَ الْغُلاَمُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا . قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَدِهِ .
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟ جو بائیں طرف تھے، لڑکے نے کہا نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو ٹھے میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی لڑکے کو دے دیا ۔
حدیث 1689 — موطأ مالك 49:19
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ " . قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " لِلطَّعَامِ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا " . قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ . فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ " . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ بِالدُّخُولِ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلاً أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم سے : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی ۔ تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی ام سلیم نے کچھ روٹیاں جو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں کھڑا ہو رہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پوچھا کیا تجھ کو ابا طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کھانے کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا سب اٹھو! سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور ابوطلحہ کو جا کر خبر کی، ابوطلحہ نے ام سلیم سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ابوطلحہ نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آکر ملے یہاں تک کہ ابوطلحہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں مل کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ! ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا پھر ام سلیم نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی وہ ملیدہ بن گیا اس کے بعد جو اللہ جل جلالہ کو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دس کو اور بلاؤ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسی (80) سب سیر ہو گئے ۔
حدیث 1690 — موطأ مالك 49:20
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاَثَةِ وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے ۔