جابر بن عبداللہ اسلمی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بند کر دروازے کو اور منہ باندھا کرو مشک کا اور بند رکھا کرو برتن کو اور بجھا دیا کرو چراغ کو کہ شیطان دروازہ کو نہیں کھولتا اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا اور برتن نہیں کھولتا اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے ۔
ابی شریح الکعبی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے اور تین رات دن تک جو کچھ خاطر ہو کھلائے اور زیادہ اس سے ثواب ہے اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت شدت سے پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں دیکھا اس میں اتر کر پانی پیا جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ جل جلالہ اس سے خوش ہو گیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کے جگر میں ثواب ہے ۔
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ساحل دریا کی طرف اور ان پر حاکم مقر کیا ابوعیبدہ بن جراح کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے میں بھی ان میں شریک تھا راہ میں کھانا ختم ہوچکا ابوعبیدہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے ابوعبیدہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصہ میں آنے لگی پھر وہ بھی تمام ہوگئی وہب بن کیسان کہتے ہیں میں نے جابر سے پوچھا ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ دریا کے کنارے پر ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا پھر ابوعیبدہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا ۔
حدیث 1695 — موطأ مالك 49:25
حسن
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا " .
عمر بن سعد بن معاذ کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو! نہ ذلیل کرے کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو اگرچہ وہ ایک کھر جلا ہوا بکری کا بھیجے ۔
حدیث 1696 — موطأ مالك 49:26
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ نُهُوا عَنْ أَكْلِ الشَّحْمِ فَبَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ نُهُوا عَنْ أَكْلِ الشَّحْمِ فَبَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالاَ أَخْرَجَنَا الْجُوعُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ " . فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الأَنْصَارِيِّ فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ " . فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَتُسْئَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ " .
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے وہاں ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے ایک بدو آیا آپ نے اس کے بلایا وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا حضرت عمرب نے فرمایا بڑا ندیدہ ہے اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہو جائے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔