قرآني·Qurani
اردو

صفة النبي صلى الله عليه وسلم

40 احادیث · #1671–1710

حدیث 1701 — موطأ مالك 49:31
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي، قَفْعَةً نَأْكُلُ مِنْهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں (حلال ہے یا حرام) پوچھا گیا تو کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا ۔
حدیث 1702 — موطأ مالك 49:32
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَى دَوَابَّ فَنَزَلُوا عِنْدَهُ - قَالَ حُمَيْدٌ - فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّي فَقُلْ إِنَّ ابْنَكِ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ وَيَقُولُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا ‏.‏ قَالَ فَوَضَعَتْ ثَلاَثَةَ أَقْرَاصٍ فِي صَحْفَةٍ وَشَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَمِلْحٍ ثُمَّ وَضَعَتْهَا عَلَى رَأْسِي وَحَمَلْتُهَا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا وَضَعْتُهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ كَبَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا مِنَ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ طَعَامُنَا إِلاَّ الأَسْوَدَيْنِ الْمَاءَ وَالتَّمْرَ ‏.‏ فَلَمْ يُصِبِ الْقَوْمُ مِنَ الطَّعَامِ شَيْئًا فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْسِنْ إِلَى غَنَمِكَ وَامْسَحِ الرُّعَامَ عَنْهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي نَاحِيَتِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَكُونُ الثُّلَّةُ مِنَ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ ‏.‏
حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے حمید نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ حمید نے کہا انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا اور میرے سر پر لادھ دیا، میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ابوہریرہ نے دیکھ کر کہا اللہ اکبر اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا جب وہ چلے گئے تو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا اے بیٹے میرے بھائی کے اچھی طرح رکھ بکریوں کو اور پونچھتا رہ ناک ان کی اور صاف کر جگہ ان کی اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں قسم اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے ۔
حدیث 1703 — موطأ مالك 49:33
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ‏"‏ ‏.‏
ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر ۔
حدیث 1704 — موطأ مالك 49:34
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ إِنَّ لِي يَتِيمًا وَلَهُ إِبِلٌ أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا وَتَلُطُّ حَوْضَهَا وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ وَلاَ نَاهِكٍ فِي الْحَلْبِ ‏.‏
یحیی بن سعید نے کہا میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہا میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے اس کے اونٹ ہیں کیا میں دودھ ان کا پیوں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اس کے گمے ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے تو دودھ ان کا پی مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے اور نسل کو ضرر پہنچے یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے ۔
حدیث 1705 — موطأ مالك 49:35
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يُؤْتَى أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلاَ شَرَابٍ حَتَّى الدَّوَاءُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ إِلاَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَاوَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُكَ بِكُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا وَأَمْسَيْنَا بِكُلِّ خَيْرٍ نَسْأَلُكَ تَمَامَهَا وَشُكْرَهَا لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ مَعَ غُلاَمِهَا فَقَالَ مَالِكٌ لَيْسَ بِذَلِكَ بَأْسٌ إِذَا كَانَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ مَا يُعْرَفُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَأْكُلَ مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَمَعَ غَيْرِهِ مِمَّنْ يُؤَاكِلُهُ أَوْ مَعَ أَخِيهَا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَخْلُوَ مَعَ الرَّجُلِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا حُرْمَةٌ ‏.‏
عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح ، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے ۔
حدیث 1706 — موطأ مالك 49:36
Mauquf Hasan Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ إِيَّاكُمْ وَاللَّحْمَ فَإِنَّ لَهُ ضَرَاوَةً كَضَرَاوَةِ الْخَمْرِ ‏.‏
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بچو تم گوشت سے کیونکہ گوشت کی طلب ہو جاتی ہے جیسے شراب پینے سے اس کی طلب ہو جاتی ہے۔
حدیث 1707 — موطأ مالك 49:37
Mauquf Hasan Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَرِمْنَا إِلَى اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَمَا يُرِيدُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوِ ابْنِ عَمِّهِ أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْكُمْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ‏}‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک ۔
حدیث 1708 — موطأ مالك 49:38
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَبَذَهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں
حدیث 1709 — موطأ مالك 49:39
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ لُبْسِ الْخَاتَمِ، فَقَالَ الْبَسْهُ وَأَخْبِرِ النَّاسَ، أَنِّي أَفْتَيْتُكَ بِذَلِكَ ‏.‏
صدقہ بن یسار نے سعید بن مسیب سے پوچھا انگوٹھی پہننے کی بابت انہوں نے کہا پہن ! اور لوگوں سے کہہ دے میں نے تجھے پہننے کو کہا ہے۔
حدیث 1710 — موطأ مالك 49:40
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - قَالَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَقِيلِهِمْ ‏ "‏ لاَ تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ ‏"‏ ‏.‏
عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی سفر میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔