عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب جب مدینہ سے مکہ آئے تو جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیتے پھر کہتے اے مکہ والو تم اپنی نماز پوری پڑھو کیونکہ میں مسافر ہوں ۔
صفوان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر عیادت کرنے آئے عبداللہ بن صفوان کے پاس تو دو رکعتیں پڑھائیں پھر جب انہوں نے سلام پھیرا ہم اٹھے اور پورا کیا نماز کو ۔
عبداللہ بن عمر سفر میں فرض کے ساتھ نفل نہیں پڑھتے تھے نہ آگے فرض کے نہ بعد فرض کے مگر رات کو زمین پر اتر کے اور کبھی اونٹ ہی پر نفل پڑھتے تھے اگرچہ منہ اونٹ کا قبلہ کی طرف نہ ہوتا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن نفل پڑھا کر تے تھے سفر میں ۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے بیٹے عبیداللہ کو سفر میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے پھر کچھ انکار نہ کر تے تھے ان پر ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے گدھے پر اور رخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی جانب تھا ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اونٹ پر سفر میں جس طرف اونٹ کا منہ ہوتا تھا اسی طرف اپنا منہ کرتے تھے عبداللہ بن دینار نے کہا کہ عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس کو نماز پڑھتے تھے سفر میں گدھے پر اور منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ تھا رکوع اور سجدہ اشارہ سے کر لیتے تھے بغیر اس امر کے کہ منہ اپنا کسی چیز پر رکھیں ۔