ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھپائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا ۔
حدیث 358 — موطأ مالك 9:33
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ .
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے ۔
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں ۔
حدیث 360 — موطأ مالك 9:35
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہو گیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں گیا عمر بن خطاب کے پاس گرمی کے وقت تو پایا میں نے ان کو نفل پڑھتے ہوئے پس کھڑا ہونے لگا میں یچھے ان کے سو قریب کر لیا انہوں نے مجھ کو اور کھڑا کیا آپ نے برابر داہنی طرف بعد اس کے جب آیا یرفا تو پیچھے ہٹ گیا میں اور صف باندھی ہم دونوں نے پیچھے حضرت عمر کے ۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔
ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو ۔
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا تو اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے سے گزر جانے سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ تھے عبداللہ بن عمر ناپسند سمجھتے تھے یہ کہ وہ گزرے عورتوں کے آگے سے اور وہ نماز پڑھ رہی ہوں ۔