قرآني·Qurani
اردو

قصر الصلاة

102 احادیث · #326–427

حدیث 366 — موطأ مالك 9:41
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ أَحَدٍ وَلاَ يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے ۔
حدیث 367 — موطأ مالك 9:42
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے منی میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہو گیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا ۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں ۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی ۔
حدیث 368 — موطأ مالك 9:43
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلاَةُ قَائِمَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَبَعْدَ أَنْ يُحْرِمَ الإِمَامُ وَلَمْ يَجِدِ الْمَرْءُ مَدْخَلاً إِلَى الْمَسْجِدِ إِلاَّ بَيْنَ الصُّفُوفِ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلاَةُ قَائِمَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَبَعْدَ أَنْ يُحْرِمَ الإِمَامُ وَلَمْ يَجِدِ الْمَرْءُ مَدْخَلاً إِلَى الْمَسْجِدِ إِلاَّ بَيْنَ الصُّفُوفِ ‏.‏
حدیث 369 — موطأ مالك 9:44
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
حدیث 370 — موطأ مالك 9:45
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں
حدیث 371 — موطأ مالك 9:46
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى ‏.‏
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى ‏.‏
حدیث 372 — موطأ مالك 9:47
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے ۔
حدیث 373 — موطأ مالك 9:48
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا أَهْوَى لِيَسْجُدَ مَسَحَ الْحَصْبَاءَ لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا ‏.‏
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے ۔
حدیث 374 — موطأ مالك 9:49
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، كَانَ يَقُولُ مَسْحُ الْحَصْبَاءِ مَسْحَةً وَاحِدَةً وَتَرْكُهَا خَيْرٌ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔
حدیث 375 — موطأ مالك 9:50
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَإِذَا جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ كَبَّرَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کو صفیں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے جب وہ لوگ لوٹ کر خبر دیتے کہ صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر کہتے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔