قرآني·Qurani
اردو

قصر الصلاة

102 احادیث · #326–427

حدیث 386 — موطأ مالك 9:61
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہ بتاؤں میں تم کو وہ چیزیں جو دور کرتی ہیں گناہوں کو اور بڑھاتی ہیں درجوں کو پورا کرنا وضو کا تکلیف کے وقت اور قدم بہت ہونا مسجد تک اور انتظار کرنا نماز کا بعد ایک نماز کے یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط۔ سعید بن مسیب نے کہا کہتے ہیں مسجد سے بعد اذان کے جو نکل جائے اور پھر آنے کا اردہ نہ ہو تو وہ منافق ہے ۔
حدیث 387 — موطأ مالك 9:62
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ يُقَالُ لاَ يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ - إِلاَّ أَحَدٌ يُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَيْهِ - إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ يُقَالُ لاَ يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ - إِلاَّ أَحَدٌ يُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَيْهِ - إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏.‏
حدیث 388 — موطأ مالك 9:63
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ ‏"‏ ‏.‏
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے ۔
حدیث 389 — موطأ مالك 9:64
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَلَمْ أَرَ صَاحِبَكَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَجْلِسَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ حَسَنٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ ‏.‏
ابو النضر سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا مجھ سے میں نہیں دیکھتا تمہارے صاحب یعنی عمر بن عبیداللہ کو تحیةالمسجد پڑھتے ہوئے جب آتے ہیں مسجد کو تو بیٹھ جاتے ہیں بغیر پڑھے ہوئے ابونضر نے کہا کہ ابوسلمہ عیب کرتے تھے اس امر کا عمر بن عبیداللہ پر ۔
حدیث 390 — موطأ مالك 9:65
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْبَرْدِ وَإِنَّهُ لَيُخْرِجُ كَفَّيْهِ مِنْ تَحْتِ بُرْنُسٍ لَهُ حَتَّى يَضَعَهُمَا عَلَى الْحَصْبَاءِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب سجدہ کرتے تھے تو جس چیز پر سجدہ کرتے تھے اسی پر ہاتھ رکھتے تھے نافع نے کہا کہ سخت جاڑے کے دن میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا اپنے ہاتھ نکالتے تھے جبہ سے اور رکھتے تھے ان کر پتھریلی زمین پر ۔
حدیث 391 — موطأ مالك 9:66
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی زمین پر رکھے پھر منہ اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے اس لئے کہ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں جیسے منہ سجدہ کرتا ہے ۔
حدیث 392 — موطأ مالك 9:67
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَلَمَةَ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ مِنَ التَّصْفِيقِ الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ مَنْ نَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے بنی عمرو بن عوف کے پاس ان میں صلح کرنے کو اور وقت آگیا نماز کا تو مؤذن ابوبکر صدیق کے پاس آکر بولا اگر تم نماز پڑھاؤ تو میں تکبیر کہوں بولے اچھا پس شروع کی نماز ابوبکر نے اور آگئے رسول اللہ اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیر کر پہلی صف میں آکر کھڑے ہو گئے پس دستک دی لوگوں نے مگر ابوبکر نماز میں کسی طرف دھیان نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت زور سے دستکیں دینا شروع کیں تب دیکھا ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ارادہ کیا پیچھے ہٹنے کا پس اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو تو دونوں ہاتھ اٹھا کر ابوبکر نے اللہ کا شکر کیا اس بات پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امام رہنے کا حکم دیا پھر پیچھے ہٹ آئے ابوبکر اور آگے بڑھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھا کر فارغ ہوئے پھر فرمایا اے ابوبکر تم کیوں اپنی جگہ پر کھڑے نہ رہے جب میں نے تم کو اشارہ کیا تھا ابوبکر نے کہا بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات پہنچتی ہے کہ نماز پڑھاۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے تم نے اس قدر دستکیں کیوں بجائیں جس شخص کو نماز میں کچھ حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے لوگ اس طرف دیکھ لیں گے اور دستک دینا عورتوں کے لئے ہے
حدیث 393 — موطأ مالك 9:68
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز میں التفات نہیں کرتے تھے ۔
حدیث 394 — موطأ مالك 9:69
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَرَائِي وَلاَ أَشْعُرُ فَالْتَفَتُّ فَغَمَزَنِي ‏.‏
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ میں پڑھتا تھا اور عبداللہ بن عمر میرے پیچھے تھے مجھے خبر نہ تھی میں نے ان کو دیکھا تو دباد یا انہوں نے مجھ کو ۔
حدیث 395 — موطأ مالك 9:70
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ النَّاسَ رُكُوعًا فَرَكَعَ ثُمَّ دَبَّ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ ‏.‏
ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ زید بن ثابت مسجد میں آئے تو امام کو رکوع میں پایا پس رکوع کر لیا پھر آہستہ چل کر صف میں مل گئے ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ رکوع میں آہتسہ چلتے تھے صف میں مل جانے کو۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔