ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اے پروردگار رحمت اتار اپنی محمد اور ان کی بیبیوں اور آل پر جیسے رحمت کی تو نے ابراہیم پر اور برکت اتار محمد اور ان کی بیبیوں پر اور آل پر جیسے تو نے برکت اتاری ابراہیم کی اولاد پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بڑا ہے ۔
ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہمارے پاس سعد بن عبادہ کے مکان میں تو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بشیر بن سعد نے حکم کیا ہم کو اللہ جل جلالہ نے درود بھیجنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کیوں کر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پس چپ ہو رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ ہم کو تمنا ہوئی کہ کاش نہ پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید اور سلام بھیجنے کی ترکیب جیسے تم جان چکے ہو ۔
حدیث 399 — موطأ مالك 9:74
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقِفُ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر درود بھیجتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ابوبکر اور عمر پر ۔
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ظہر کی اول دو رکعتیں اور بعد ظہر کے دو رکعتیں اور بعد مغرب کے دو رکعتیں اپنے گھر میں اور بعد عشا کے دو رکعتیں اور نہیں پڑھتے تھے بعد جمعہ کے مسجد میں یہاں تک کہ گھر میں آتے تو دو رکعتیں پرھتے ۔
حدیث 401 — موطأ مالك 9:76
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ خُشُوعُكُمْ وَلاَ رُكُوعُكُمْ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم دیکھتے ہو میرا منہ قبلہ کی طرف قسم اللہ کی مجھ سے چھپا نہیں ہے خشوع تمہارا نماز میں اور رکوع تمہارا میں دیکھتا ہوں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے ۔
حدیث 402 — موطأ مالك 9:77
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تھے قبا میں سوار ہو کر اور پیدل ۔
نعمان بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رائے ہے تمہاری اس شخص میں جو شراب پئے اور چوری کرے اور زنا کرے اور تھا یہ امر قبل اترنے حکم کے ان کے باب میں تو کہا صحابہ نے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برے کام ہیں ان میں سزا ضرور ہے اور سب چوریوں میں بری نماز کی چوری ہے پوچھا صحابہ نے نماز کا چور کیونکر ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے ۔
حدیث 404 — موطأ مالك 9:79
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ ایک حصہ اپنی نماز میں سے اپنے گھروں میں ادا کرو ۔