ربیعہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب آتے مسجد میں اور معلوم ہوتا کہ جماعت ہو چکی ہے تو فرض شروع کرتے اور سنتیں نہ پڑھتے ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر گزرے ایک شخص پر اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو سلام کیا اس کو اس نے جواب دیا زبان سے پھر لوٹے عبداللہ بن عمر اور کہا اس سے جب کوئی سلام کرے تم پر تم نماز پڑھتے ہو تو زبان سے جواب نہ دو بلکہ ہاتھ سے اشارہ کر دو ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص بھول جائے نماز کو پھر یاد کرے اور وہ دوسری نماز میں امام کے پیچھے ہو تو جب امام سلام پھیرے تو چاہئے کہ اس نماز کو پڑھ کر جو نماز امام کے ساتھ پڑھی ہے اس کا اعادہ کرے ۔
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے بیٹھے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوا بائیں طرف سے مڑ کر ان کے پاس گیا تو عبداللہ بن عمر نے کہا تو داہنی طرف سے مڑ کر کیوں نہ آیا میں نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر بائیں طرف سے مڑ کر چلا آیا عبداللہ نے کہا تو نے اچھا کیا ایک صاحب کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھ چکے تو داہنی طرف سے مڑ مگر تو جب نماز پڑھے تو جدھر سے چاہے مڑ کر جا داہنی طرف سے یا بائیں طرف سے ۔
سعید بن مسیب نے کہا کہ وہ کون سی نماز ہے جس میں ہر رکعت کے بعد بیٹھنا پڑے پھر خود ہی کہا وہ نماز مغرب کی ہے جب ایک رکعت فوت ہو جائے امام کے ساتھ۔
حدیث 412 — موطأ مالك 9:87
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا .
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اپنی نواسی امامہ کو جو بیٹی زینب کی تھیں ابوالعاص سے اٹھاے ہوئے تو جب سجدہ کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بٹھا دیتے ان کو زمین پر جب کھڑے ہوتے اٹھا لیتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آتے جاتے رہتے ہیں فرشتے تمہارے پاس رات کے جدا ہونے کے وقت اور دن کے جدا ہونے کے وقت اور جمع ہوجاتے ہیں سب عصر کی اور فجر کی نماز میں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے ساتھ رہتے ہیں چڑھ جاتے ہیں اور پس پوچھتا ہے ان سے پروردگار ( حالانکہ وہ خوب جانتا ہے) کس حال میں چھوڑا تم نے میرے بندوں کو؟ کہتے ہیں ہم نے چھوڑا ان کو نماز میں، جب ہم گئے تھے جب بھی نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث 414 — موطأ مالك 9:89
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلِيُصَلِّيَ لِلنَّاسِ . قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا مرض موت میں ابوبکر کو نماز پڑھانے کا تو کہا میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی تو حکم کیجئے عمر کو نماز پڑھانے کا میں نے حفصہ سے کہا تم کہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوبکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ میں کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی پس حکم کیجئے عمر کو نماز پڑھانے کا سو کہا حضرت نے تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم یوسف کی ساتھی عورتوں کی طرح ہو کہو ابوبکر سے نماز پڑھانے کو پس کہا حفصہ نے عائشہ سے تم سے مجھے بھلائی نہ ہوئی ۔
حدیث 415 — موطأ مالك 9:90
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَلَمْ يُدْرَ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَهَرَ " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ بَلَى وَلاَ شَهَادَةَ لَهُ . فَقَالَ " أَلَيْسَ يُصَلِّي " . قَالَ بَلَى وَلاَ صَلاَةَ لَهُ . فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ " .
عبیداللہ بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور کان میں کچھ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے لگا ہم کو خبر نہیں ہوئی کیا کہتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکار کر بول اٹھے تب معلوم ہوا وہ شخص حضرت سے ایک منافق کے قتل کی اجازت چاہتا تھا تو جب پکار اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کیا وہ شخص گواہی نہیں دیتا اس امر کی کہ کوئی معبود حق نہیں ہے سوا اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اس کے رسول ہیں اس شخص نے کہا ہاں مگر اس کی گواہی کا کچھ اعتبار نہیں تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ نماز نہیں پڑھتا بولا ہاں پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کا کچھ اعتبار نہیں ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا ہے مجھ کو اللہ نے ۔