قرآني·Qurani
اردو

الشعر

17 احادیث · #1730–1746

حدیث 1730 — موطأ مالك 51:1
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى ‏.‏
حدیث 1731 — موطأ مالك 51:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منع کرتے تھے اس سے اور فرماتے تھے کہ تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
حدیث 1732 — موطأ مالك 51:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى شَعَرِ امْرَأَةِ ابْنِهِ أَوْ شَعَرِ أُمِّ امْرَأَتِهِ بَأْسٌ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک بعد اس کے مانگ نکالنے لگے ۔
حدیث 1733 — موطأ مالك 51:4
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الإِخْصَاءَ وَيَقُولُ فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے ۔
حدیث 1734 — موطأ مالك 51:5
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَى ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ ‏.‏
صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں یتیم کا پالنے والا خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیان جبکہ پرہیزگاری کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف ۔
حدیث 1735 — موطأ مالك 51:6
ضعیف
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا ‏"‏ فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَكْرِمْهَا ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میرے بال کندھوں تک ہیں ان میں کنگھی کروں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر ابوقتادہ کبھی کبھی ایک دن میں دوبار تیل ڈالتے اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔
حدیث 1736 — موطأ مالك 51:7
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنِ اخْرُجْ كَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلاَحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص نجس بال سر اور داڑھی کے پریشان تھے آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اشارہ کیا یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ وہ شخص درست کر کے پھر آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر جیسے شیطان ۔
حدیث 1737 — موطأ مالك 51:8
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَ وَكَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَكَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ - قَالَ - فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا - قَالَ - فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَىَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَىَّ لأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يَصْبُغُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ وَتَرْكُ الصَّبْغِ كُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْسَلَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی خضاب لگایا کرتے تھے ۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے، اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں ۔
حدیث 1738 — موطأ مالك 51:9
حسن Lighairihi
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ‏"‏ ‏.‏
خالد بن ولید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کر پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے اس کے غصے اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے ۔
حدیث 1739 — موطأ مالك 51:10
حسن Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَى عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ كُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَفَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَلَى ‏"‏ فَقَالَ جِبْرِيلُ فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللاَّتِي لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلاَّ طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ ‏.‏
یحیی بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا آتا تھا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں سکھاؤ جبرائل نے کہا کہو اعوذ بوجہ اللہ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔