وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ قَالَ مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَىِّ شَىْءٍ " . فَقَالَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ . لَمْ تَضُرَّكَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا میں رات کو نہیں سویا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں کس وجہ سے؟ وہ بولا مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا اعوذبکلمات اللہ التامات من شرماخلق (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے) تو بچھو تجھے کچھ ضرر نہ دیتا۔
قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے لوگوں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں کعب نے کہا یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ سے جو بڑی عظمت ولا ہے نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنی سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا پیدا کیا اور پھیلایا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ ارشاد فرمادے گا دن قیامت کے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو آپس میں دوستی رکھتے تھے میری بزرگی کے واسطے آج کے دن میں ان کو سائے میں رکھوں گا یہ وہ دن ہے جس دن کہیں سایہ نہیں سوائے میرے سائے کے ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوئی
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے ۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں گیا وہاں مں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سفید دندان تھا اس کے ساتھ والے لوگ جب کسی بات میں اختلاف کرتے ہیں تو جو وہ کہتا ہے اسی کی سند پکڑتے ہیں اور اس کے قول پر تھم جاتے ہیں میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے لوگوں نے کہا معاذ بن جبل ہیں جب دوسرا روز ہوا تو میں بہت سویرے گیا دیکھا تو وہ مجھ سے آگے آئے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں میں ٹھہرا رہا جب نماز پڑھ چکے تو میں ان کے سامنے آیا اور سلام کیا پھر میں نے کہا میں تم کو اللہ جل جلالہ کے واسطے چاہتا ہوں اور محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا اللہ کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں اللہ کے واسطے انہوں نے پھر کہا اللہ کے واسطے؟ میں کہا ہاں اللہ کے واسطے پھر انہوں نے میری چادر کا کونا پکڑ کے مجھے گھسیٹا اور کہا خوش ہوجا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ جل جلالہ فرماتے ہے واجب ہوئی محبت میری ان لوگوں سے جو میرے واسطے دوستی اور محبت رکھتے ہیں اور میرے واسطے مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے واسطے اپنی جان اور مال صرف کرتے ہیں اور میرے واسطے ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں میانہ روی اور نرمی اور اچھی سج دھج ایک جز ہے نبوت کے پچیس جزوں میں سے ۔